پاکستان کی کہانی
اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کے قلم سے
قسط نمبر ۱
پاکستان کو بننے کی تحریک کے پیچھے جو محرکات سامنے آتے ہیں اگر اُن کا
جائزہ اُس وقت سے لیا جائے جب برصغیر پاک وہند میں پہلا شخص مسلمان ہوا یا
پھر جب محمد بن قاسمؒ نے سندھ فتح کیا اور مذید اگر ہم بعد میں آتے ہیں تو
پھر اُس وقت جب مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو شکست دئے کر انگریزوں نے
ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔یہ جتنے بھی محرکات ہیں اِ کے پیچھے صرف ایک ہی
بات ہے وہ ہے مسلمانوں کی بے چینی اور کسمپرسی۔ اللہ پاک کی ذات کی وحدانیت
کا ڈنکا برصغیر پاک وہند میں اللہ پاک کے نیک بندوں کی مسا عی جمیلہ کا
حاصل ہی تو ہے۔مسلمانوٍں کو جب اٹھارہ سو ستاون میں شکست ہوئی تو مسلمانوں
کی حالت پہلے بھی کچھ بہتر نہ تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قابلِ رحم
ہوتی چلی گئی مسلمان جو کہ نبی پاکﷺ کے محبت اور عقیدت کو اپنا ایمان
سمجھتے ہیں اُن کے لیے یہ بات بہت ہی مشکل تھی کہ وہ انگریزوں اور ہندووں
کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالے پھرتے۔مسلمانوں نے بزور شمشیر حکومت نہ کہ
تھی اور نہ ہی اسلام کو اِس طرح پھیلایا بلکہ تا ریخ کے یہ انمٹ نقوش ہیں
کہ اسلام کو پھیلانے میں صوفیا ء کا کردار ہے ۔جن کا اول و آخر مسلک محبت
ٹھر ا ہے۔حضرت داتا علی ہجویریؒ ، سائیں سچل سرمستؒ ، خواجہ معین الدین
چشتیؒ ، شاہ رکن علم سہروردیؒ بابا بھلے شاہ، رحمان بابا، شاہ عبداللطیف
بھٹائیؒ ، حضرت حاجی محمد نوشہ گنج بخشؒ ،حضرت سخی سلطان باہوؒ جیسے
سینکڑوں بزرگانِ دین نے بُت کدہ ہندوستان میں توحید کا چراغ روشن کیا اور
اِس مقصد کے لیے محبت اور رواداری کو اپنے مشن کا جزولاینفک بنایا۔جب بندہ
اپنے رب کے آگے جھک جاتا ہے تو پھر اُسے کسی بھی طرح کا ڈر و خوف نہیں
رہتا۔رب پاک کی واحدنیت پر ایمان لانے کے بعد پھر سے بے اطمینانی سے دو
چار ہونا ایسے ہی ہے کہ جیسے پانی کا گلاس ہاتھ میں ہو اور ہم اُسے پی
نہیں رہے ہوں بلکہ اُلٹا پیاس پیاس کی رٹ لگا رہے ہوں ۔رب پاک کا بندہ
ہونے کا جب ہم اقرار کر لیتے ہیں تو پھر بندگی کا تقاضا تو اُسی طرح ہے
کہ جس طرح محب اپنے محبوب کی محبت کا دم بھرتا ہے اُسی طرح کا تعلق رب پاک
اور بندے کے درمیان استوار ہوجاتا ہے۔ رب پاک کی یکتائی پر ایمان لانا اور
خود کو اُس کا بندہ کہلوانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ایک لمحہ ایک ایک
ساعت رب پاک کی رضا کے لیے ہے۔ رب پاک کابندہ بننے کے بعد دُنیاوی
خُداوں کی اطاعت سے نجات مل جاتی ہے اور حقیقی خالق کی پناہ حاصل ہو جاتی
ہے ایمان کو اب کیسے مضبوط کیا جائے اِس کے لیے بندہ اپنے اقوال و افعال
کو رب پاک کی رضا کے تابع کرے ۔جب بندہ اپنے رب کی بات مانتا ہے تو رب
پاک بندے کی رضا کو پورا کرنے والا بن جاتا ہے۔ معاشرے جب من کے گندے
اور تن کے اُجلے بن جائیں تو اُن کی اورہالنگ تب ہی ممکن ہے جب اللہ
پاک کی رضا کو ہر لمحے مقدم رکھا جائے۔ نفس کشی یعنی انسان اپنی ذات کی
نفی کرلے اور عدل سے کام لے یعنی جو کام جیسا ہونا چاہیے ویسا ہی کیا
جائے۔ انسان جب اپنی ذات سے عدل کرتا ہے تو اپنے خواہشات کو اپنے رب کی
رضا کے آگے زیر کرلیتا ہے تو پھر اللہ پاک اپنے بندے کی حاجت پوری
کردیتا ہے ۔گویا اللہ پاک کا راضی ہونا بندے کی دعا کی قبولیت ہے اور دُعا
کی قبولیت کے لیے بندے کا اپنے رب کی اطاعت کرنا ایک معیار ہے مطلب صاف
واضع ہے کہ جو بندے اللہ پاک کی اطاعت کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں تو پھر
بندے کی رضا رب کی رضا بن جاتی ہے تب پھر اللہ پاک یہ اعلان فرمادیتا ہے کہ
اے میرے بندے میں تمھاری آنکھ بن جاتا ہوں جس سے تو دیکھتا ہے ۔ رب پاک کی
آنکھ سے دیکھنے والا بندہِ مومن پھر کیسے دنیا اور آخرت میں ناکام
ہوسکتا ہے۔ وہ تو اپنے رب کا دوست بن جاتا ہے اور رب پاک کہتا ہے میرے
دوستوں کو نہ کسی کا ڈر ہے اور نہ خوف۔بندے کا وجود جب رب پاک کی منشا کا
پیروکار بن جاتا ہے تو پھر بندہ اپنے رب کی عطا کی ہوئی رحمتوں کے سائے
تلے اپنے آپ کو ہر محاذ پر کامران پاتا ہے کیونکہ بندے کے وجود کا ہر
حصہ رب پاک کی اطاعت پر قربان ہو چکا ہوتا ہے۔ دولت شان وشوکت کا ہوس
کی حد تک حصول کے لیے کوشاں ہو نا انسان سے اس کا سکون اور
اطمینان چھین لیتا ہے لالچ آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا ہے۔خیر اور
شر حلال اور حرام میں فرق کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔رب
پاک سے دوری اور شیطان سے نزدیکی کا عمل جاری رہتا ہے۔شیطانی
خصوصیات انسان کے اندر جاگزیں ہو جاتی ہیں ۔انسان کو پتہ اس وقت
چلتا ہے جب وہ شیطانوں قوتوں کا آلہ کار بن چکا ہوتا ہے
اور اسکا دل سیاہ ہو چکا ہوتا ہے اس کے لا شعور میں یہ خیال
راسخ ہو جاتا ہے کہ اُس نے تو کچھ نہیں کیا وہ تو صرف ہر کسی
کے فعل کااُسکے رد عمل کے طور پر جواب دیتا رہا ہے۔لیکن وہ
رحمان کو چھوڑ کر شیطان کا ہمنوا بن جاتا ہے اور دنیا کے لیے
اُسکا وجود نفع بحش نہیں رہتا بلکہ وہ تو ہر کسی پر بارگراں
بن کر گرتا ہے۔اگر انسان کو بطور مخلوق اس بات کا ادراک ہو
جاتا ہے۔ کہ وہ ایک عظیم الشان ہستی کا بندہ ہے وہ ایک ہستی
ہے جو یکتا ہے وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے وہ ہستی کسی کی باپ
نہیں ہے۔ وہ کسی کا بیٹا بھی نہیں ہے اس کا کوئی ہمسر اور
ثانی نہیں یہ ادراک انسان کو ہر طرح کی غلامی سے نجات دلا
دیتا ہے اور وہ خود کو اپنے خا لق و مالک رب کائنات کی پناہ
میں پاتا ہے ۔ اسکو کسی اور معبود کی دست گیری کی تمنا نہیں
رہتی وہ چرند،پرند،جن،فرشتوں دنیاکی ہر محلوق سے ممتاز حثیت
احتیار کرلیتا ہے۔اور بقول اقبالؒ پھر بندے کو ہزاروں جگہ سجدے
کرنے سے نجات مل جاتی ہے۔ انسان صرف ایک ہستی کا غلام قرار
پاتا ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہوتاہے جو انسان کے لیے ہر
طرح کے اسباب پیدا کرتا ہے۔اور یہ ہی وہ ہستی ہے جس نے موت ،
زندگی اور رزق کو عطا کرنا ہوتا ہے۔ خالص توحید سے آشنائی مصطفے کریمﷺ
کے توسط سے ساری کائنات کو نصیب ہوئی ہے اور انسان اِس نعمت سے آشنائی
کے لیے نبی پاک ﷺ کا شکر گزار ہے کہ آپ ﷺ نے انسانیت پر یہ رحمت فرمائی کہ
انسانوں کو اُن کے رب پاک سے ملایا۔بقول اقبالؒ کے مرشد مولانا رومیؒ
ہم خُدا خواہی وہم دُنیا دؤں، ایں خیال محال است وجنُوں۔ یعنی تُو
خُدا کو بھی چاہتا ہے اور ذلیل دُینا کو بھی، یہ خیال ، جنُون اور محال
بات ہے۔پاکستان تو خطہ بُت میں توحید کا نعرہ بلند کرنے کے لیے قائم
ہوناتھا اِس لیے پاکستان کی بنیاد میں رب کی خالص توحید کار فرماہے۔ (جاری)
No comments:
Post a Comment